میں کیسے جان سکتا ہوں کہ مجھے معافی مل گئی ہے ؟

میں کیسے جان سکتا ہوں کہ مجھے معافی مل گئی ہے ؟

سوال

وھیل مچھلی

میں کیسے جان سکتا ہوں کہ مجھے معافی مل گئی ہے ۔ میں ایک مشنری ہوں ، اور میں ہر ایک بات اپنے مشن کے صدر کے سامنے بیان کر چکا ہوں ۔ میں اپنے ممکنہ گناہوں سے ڈرتا ہوں جنہیں میں کر سکتا تھا ۔ میرے مشن کے صدر نے مجھے بتایا ہے کہ میں ایک سال کے لئے باہر ہوں ۔ میں ابھی تک غلطی یا جرم کا احساس ہے ۔ میں پہلے سیکس نہیں کیا ۔ میں نے محسوس کیا کہ کس طرح جان سکتا ہوں کہ میں خدا سے وابستہ ہسوں جیسے میرے مشن کے صدر نے بتایا ہے کہ میں ہوں ۔ میں اوروں کی طرح روح محسوس نہیں کر سکتا ، یہ ہے جو گزشتہ ایک برس میں میرے لئے مشکل رہا ہے ۔ ہیریسن نے کہا۔

جواب

ہیریسن

اپنے مشن پر ، میں نے ایسا ہی ایک سوال پوچھا تھا اور مجھے ایسا ہی احساس ہوا کہ اسے میں بشدت جاننا چاہتا تھا کہ مجھے معافی مل گئی ہے ، اور پھر بھی مجھے وہ احساس نہیں ہو رہا تھاجو آپ نے بتا یا ہے ۔ آپ کی طرح میں بھی خاص گناہوں سے اگاہ تھا اور جس سے خدا کی بادشاہت میں میری رکنیت خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔ میں آپکی طرح یقین کرنا چاہتا ہوں ، کہ میں نے کافی حد تک اعتراف کرنے اور گناہ کو ترک کرنے کے حکم پر عمل کیا ہے ۔

میں ذیل کے صحائف سے اگاہ تھا جیسا کہ مجھے یقین ہے آپ بھی ہیں ۔تعلیم اور عہود ۵۸؛۴۲۔۴۳، جو کوئی اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے اسے معاف کیا جاتا ہے اور میں خداوند انھیں پھر یاد نہیں رکھتا ۔ اگر کوئی انسان اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا دیکھو وہ ان سے توبہ کرے گا اور ان کو ترک کرے گا ۔

یسعیاہ ۱؛۱۸ خداوند فرماتا ہے ، آؤ ہم باہم حجت کریں ، اگرچہ تمہارے گناہ قرمزی ہوں وہ برف کی مانند سفید ہو جائیں گے ، اور ہر چند وہ ارغوانی ہوں تو بھی اون کی مانند اجلے ہو نگے۔
اور پھر بھی صحائف کے ان ان دو حوالہ جات اور خداوند کے براہ راست خصوصی بیان کے باوجود ، اگر میں نے توبہ کی اور اپنے گناہوں کو ترک کیا ہے تو مجھے معافی مل گئی ہے ، پھر بھی میں ماضی کے گناہ کے احساس جرم میں مبتلا ہوں ۔ شیطان نہیں چاہتا کہ میں شفا پاؤں ، بلکہ یوں کہنا چاہیے ، کہ وہ نہیں چاہتا کہ کفارہ مجھے پاک صاف کرے ۔ میں خود اس کے رحم اور معافی کے فضل کے احساس کے لئے خداوند کے ساتھ باہم حجت نہیں کرنا چاہتا شیطان اس سے آگاہ ہے اور مجھے مایوسی اور نا امیدی کے احساس کے دکھ میں ڈال دیا ہے ۔ جب ہم مسیح کے پاس آتے ہیں ، ہیریسن ، اسکا روح چاہتا ہے کہ ہماری بد حالی یقیناٰٰ دور ہو

خداوند کا پیارا نبی نیفی اسے سمجھتا تھا ، جسے میں صحائف سے ہی بتا سکتا ہوں ، کہ وہ ایک شہ زور نڈر نو جوان تھا ، اسے خداوند سے محبت تھی،اسکی تابعداری کے باوجود ، مورمن کی کتاب میں ایک سبق ہے جو اسکی ناکاملیت کی مایوسی بیان کرتا ہے وہ اپنے ذہن میں تباہ حال تھا ’’ گناہ جو بآسانی دور ہو سکتے ہیں ‘‘ یہ الفاظ ہمیں ۲ نیفی ۴ میں ملتے ہیں کہ کس طرح وہ شادمان ہونے کی خواہش کرتا ہے لیکن وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے بہت دکھی ہو جاتا ہے جب اس نے فرمایا ، ہائے میں کتنا کم بخت آدمی ہوں ، ہاں کہ میرا دل بشریت کی وجہ سے افسردہ ہے اور میری روح میری بدیوں کی وجہ سے غمگین ہے ، ‘‘ اور یہ کہا کہ میرا دل اور دماغ پریشان ہیں ، اس نے بصیرت کے یہ لافاظ فرمائے ، لیکن میں اسے جانتا ہوں جس پر میرا بھرپور توکل ہے ‘‘ ۔

جب میں مشن سے گھر آیا تو مجھے ایک عمدہ یا قابل تعریف بشپ کے ساتھ خدمت کرنے کا مبارک موقع ملا ۔ میں نے اکثر محسوس کیا کہ یہ بشپ خداوند کے روح کے قریب تھا ۔ ایک دن میں نے خیال کیا کہ کافی کچھ کر لیا ہے اس لئے مجھے اپنے بشپ سے اعتراف کرنے کی ضرورت ہے ( اگرچہ یہ بہت پہلے کی بات تھی ) ، اپنے دل کی صفائی سے اس نے میرے ہر لفظ کو غور سے سنا اور پھر مندرجہ ذیل سوالات پوچھے۔

۱۔کیا آپ نے صحائف کے مطالعہ یا دعا سے کچھ نیا سکھنے کی تحریک پائی ہے ؟ جسکا جواب میں نے اثبات میں دیا ۔
۱۔ کیا روح القدس کی طاقت سے آپ نے آسمانی باپ سے مکاشفہ ھاصل کیا ؟ اس کا ضواب بھی میں نے اثبات میں دیا ۔

پھر اس نے میرے دل اور دماغ کو سکون پہنچانے کی غرض سے امید کے مندرجہ ذیل الفاظ فرمائے ، روح القدس الوہیت کا رکن ہے ،ؓ طور خدا وہ ناپاک ہیکل میں قیام نہیں کر سکتا ، بالکل اسی طرح جس طرح کوئی ناپاک چیز خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتی ۔ جب روح القدس ہمارے ساتھ قیام کرتا ہے ، جب ہم مستکل ساتھ کے طور پر روح القدس حاصل کرتے ہیں ۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم صاف ہیں ۔ اگر ہم صاف ہیں تو وہ ہمارے ساتھ قائم رہتا ہے اور ہمیں پاک کرتا ہے ۔ اگر تم نے روح القدس سے مکاشفہ پایا ہے ، اگر تم نے روح القدس کے ذریعے خدا سے تحریک پانے کا احساس پایا ہے ، پھر تم جان سکتے ہو کہ یسوع مسیح کے کفارہ پر اپنے ایمان کے ذریعے تم پاک ہو ۔

میں اقرار کرتا ہوں کہ شروع میں تو میں نے بشپ کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا ۔ اپنے گناہوں کا اقرار کرنے اور ان کو ترک کرنے کے بعد، یہ کسی طرح بھی آسان نہیں تھا ، کہ کچھ اور بھی تھا ، میرے دل اور دماغ نے کہا کہ کچھ اور بھی ہے ۔ میرے بشپ نے یہ اصول بڑی عمدگی سے دکھایا ، اور میں پھر بھی متشکک یا شاکی رہا ہوں ۔ ایک شام اگرچہ میں مضایاہ کے باب چار میں درج بنیمین بادشاہ کے ایک واعظ کا مطالعہ کر رہا تھا ۔ یہ سبق اس خیال کو اجاگر کر رہا تھا کہ ہم سب خدا کے سامنے بھکاری ہیں ، ہم گناہوں کی معافی کے لئے درخوست کر رہے ہیں ، یقیناٰٰ یہ میں ہی تھا ، اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم بھی ہو ، ہم دونوں خدا سے گناہوں کی معافی اور معافی پانے کی آگاہی کی درخواست کر رہے ہیں ۔

جب میں نے یہ سبق پڑھاتو صحائف میں سے یہ آیت پڑھی، اور دیکھو اس وقت بھی آپ اس کا نام پکارتے ہو ، اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی کی درخواست کرتے ہو۔ اور کیا اس نے تم سے بے فائدہ درخواست کی ہے ؟ نہیں ، اس نے تم پر اپنا روح انڈیل دیا ہے ، اور اس کی وجہ سے تمہارے دل خوشی سے بھر گئے ہیں ، اور تمھارے منہ بند کر دیئے گئے ہیں تاکہ تم کچھ نہ کہہ سکو ، اور تمھاری خوشی کتنی زیادہ تھی ‘‘۔

مہربانی سے ہیریسن نوٹ کر لیں کہ اس صحیفے کے معنی کیا ہیں یا اسکے کیا نشان ہیں کہ ہمیں معافی مل گئی ہے ۔ نہیں ، اس نے اپنا روح تم پر نازل کیا یا انڈیل دیا ہے ۔‘‘ فوراٰٰ میرا ذہن اپنے حیرت انگیز بشپ کے الفاظ پر غور کرنے کی طرف مائل ہوا۔ کیا آپ کو تحریک ملی ہے ، کیا آپ نے روح القدس کی طاقت سے اپنے آسمانی باپ سے مکاشفہ حاصل کیا ہے ؟ ہائے میری روح کس قدر شادمان ہے ، اور میں جان گیا ہوں کہ میرے گناہ معاف ہو گئے ہیں ، اور نیفی کی مانند، پہلی دفعہ ، مجھے معلوم ہوا کہ میں نے کس پر بھروسہ کیا ہے ۔ شیطان پر نہیں جو مجھے بد حال بنانا چاہتا ہے ۔ شیطان پر نہیں جو مجھے میرے ماضی کے گناہوں پر پشیمان ہونا جاری رکھوں ۔ نہیں ، شیطان پر نہیں ۔ اور روح سچائی کی گواہی دیتا ہے ، اور یسوع مسیح کے کفارہ پر میرے ایمان کی وجہ سے، میں جانتا تھا کہ میرے گناہ معاف ہو گئے ہیں ۔ خداوند نے میرے ساتھ حجت کی ، اور مجھے معلوم ہوگیا کہ اپنے نجات دہندہ کے ذریعے میرے ارغوانی بھی برف کی مانند سفید ہوگئے ہیں ۔

جب تم ایسا احساس حاصل کرتے ہو جب تم موازنہ کرتے ہو کہ تم روح کے متعلق کیا محسوس کرتے ہو اور دوسرے کیا محسوس کرتے ہیں میں چاہتا ہوں کہ تم یہ جان لو کہ اس معاملے میں تم اکیلے نہیں ہو ۔ کیونکہ کافی عرصہ تک ان حیرت انگیز گواہیوں کو سننے میں میری حوصلہ شکنی کی گئی تھی ، ’’ کہ دل میں حرارت پیدا ہوئی ‘‘ کہ آج کے دن تک میں نے کبھی محسوس نہیں کی ھتی ۔ ( جس طرح کہ دوسرے بیان کرتے ہیں )۔

صحیفے کا ایک حوالہ جس نے یہ سمجھنے میں میری مدد کی کہ مجھے مندرجہ ذیل صحیفہ کی آیت یاد کرنے کی ضرورت ہے ، ’’ اور کہانت کی تعلیم آسامن کی شبنم کی مانند آپکی روح کو معطر کر دے گی ‘‘۔ نہ صرف تعلیم ہمیں آسمان سے شبنم کی مانند م معطر کرتی ہے ، بلکہ سمجھ بھی عطا کرتی ہے کہ کہ خداوند ہم سے کس طرح گفتگو کرتا ہے ۔ اور اسی طرح اس کا روح ہمیں شبنم کی مانند معطر کرتا ہے ۔ صبح کی وقت شبنم کے قطرے بلا توقف ظاہر نہیں ہوتے ۔ قطرے ختم ہو جاتے ہیں یا ایک خاص وقت میں وہ قطرے منحدم ہو جاتے ہیں ۔ جب ہم اپنے نجات دہندہ کی منند بننے کی کوشش کرتے ہیں ( اگر ہم صبر کرتے ہیں )تو ہم سطر بہ سطر ، نصیحت پر نصیحت پانے میں ترقی کریں گے ، جب تک ہم خدا کی آواز کی سچائی سن نہ لیں ، یا جیسا کہ وہ فرماتے ہیں ، تو ہم یقیناٰٰ نبوت کا کلام پائیں گے ۔ ہیریسن ، صبر کریں ۔ روح کے متعلق اپنے علم کا موازنہ دوسروں سے نہ کریں ، ایک دن تم خداوند کی برکات کا شکر ادا کرنے کے لئے پیچھے دیکھیں گے جب تم گواہوں ،فرشتوں اور خدا کے سامنے اپنے عہود پر سچائی اور ایمانداری سے قائم رہتے ہیں ۔

اس مضمون کو اس کےاصلی لنک سےپڑھنےکے لیے یہاں کلک کریں ۔askgramps.org

Pin It on Pinterest

Share This