کمزورہونا کوئی گناہ نہیں،کیامیں خداکے گھر میں داخل ہونے کےلئے واقعی اہل ہوں؟ اگر میں کامل نہیں تو میں کیسے ہو سکتی ہوں؟

“کیا خدا واقعی میری کمزوریوں کو میری قوت میں بدل دیتا ہے؟ میں نے اپنے آپ سے اِس مسئلے کو دور کرنے کےلئے دعا کی اور روزہ بھی رکھا ،مگر کچھ بھی تبدیل ہوتا دکھائی نہ دیا “

“مشن کے دوران میں اپنی زندگی کے کسی بھی دور سے زیادہ انجیل کے ساتھ مستحکم رہی ، مگر میں اپنی خامیوں سے کبھی بھی اتنی باخبر نہیں رہی  ہوں ۔ کیوں ، جب میں بہت اچھا بن رہی تھی ، میں نے بعض اوقات برُا محسوس کیا؟ ” جب ہم اِن سوالوں کے بارے غور کرتے ہیں ، تو یہ سمجھنا  اہم ہے اگرچہ گناہ لازمی طور پر ہمیں خدا سے دور لے جاتا ہے ،اِس کے برعکس کمزوریاں ہمیں خدا کی طرف لے جاتی ہیں ۔

گناہ اور کمزوری کے درمیان امتیاز  پیدا کرنا

عام طور پر گناہ اور کمزوریوں کو اپنی جانوں کی چادر پر مختلف سائز کے سادہ دھبوں کے طور پر خیال کرتے ہیں ، خطا کی مختلف سائز شدتیں ۔ مگر صحائف بتاتے ہیں کہ گناہ اور کمزوریاں وراثتی طورپرمختلف ہیں ، اور ان کے علاج بھی مختلف ہیں ، اور مختلف نتائج پیدا  کرنے کی  طاقت رکھتےہیں ۔ ہم میں سے بہت سارے گناہ کےاقرار کی  نسبت ویسے اِس سے زیادہ شناسا ہیں ، آو اِس بات کا  جائزہ لیں، گناہ ہمارے اندر  خدا کے حکموں کے خلاف اور مسیح کی روشنی کے خلاف بغاوت کرنے کا انتخاب ہے ۔ گناہ خدا کی نسبت شیطان  پر بھروسہ  کرنے کا انتخاب ہے ، ہمیں ہمارے باپ کے دشمنی پر لاتے ہوئے ۔ ہمارے برعکس ، یسوع مسیح مکمل طور پر گناہ سے پاک تھا اور اس  لیے وہ ہمارے گناہوں کا کفارہ  دے سکتا تھا ۔ جب ہم مخلصی کے ساتھ توبہ کرتے ہیں ۔۔ بشمول ہمارے ذہین ، دل اور رویے کی تبدیلی کے ، مناسب معافیوں اور اعترافات کی پیش کش، جہاں ممکن ہو وہاں ازالہ کرنا ، اور مستقبل میں وہ گناہ دوبارہ نہ کرنا ۔۔۔۔ ہم یسوع مسیح کے کفارے تک رسائی پا سکتے ، خدا سے معافی پا  سکتے ، اور پھر سے پاک ہو سکتے ہیں ۔پاک ہونا ضروری ہے کیوں کہ کوئی بھی ناپاک چیز خدا کی حضوری میں داخل نہیں ہو سکتی ۔ لیکن اگر ہمارا مقصد صرف اُتنےہی معصوم ہو نا تھا جتنے ہم تب تھے جب ہم نے خدا کی حضوری  کو چھوڑا تھا ، ہم سب کےلئے باقی ماندہ زندگی اپنے پالنوں میں آرام سے لیٹے رہنا بہتر ہوتا ۔ بلکہ  ، ہم زمین پر تجربےسے نیکی اور  بدی میں امیتاز کرنا ، دانائی اور مہارت میں ترقی کرنا، جن قدروں کا ہم خیال  کرتے ہیں اُن کے مطابق جینے ، اور خدائی خوبیوں کو حاصل کرنا سیکھنے کےلئے  آئے تھے ۔ ترقی جو ہم پنگوڑے  میں رہ کر حاصل نہیں کر سکتے ہیں ۔

کفارے کا وعدہ

“جس کی بحالی آپ نہیں کر سکتے اُس کی بحالی سے ، جن زخموں کو شفا نہیں دے سکتے اُن کی تندرستی سے ، اُس کو جوڑنا جس کو توڑکر جوڑ نہیں سکتے مسیح کے کفارے کا یہی مقصد ہے ۔۔۔۔  اور اگر انسان میرے  پاس آئیں  تو میں اُن کو اُن کی کمزوریاں دکھائوں گا ۔ میں انسان کو اسلئے کمزور  کرتا ہوں تاکہ وہ فروتن ہو ، اور میرا  فضل اُن تما م انسانوں کےلئے  کافی ہے جو اپنے آپ کو میرے سامنے فروتن کرتے ہیں ، کیونکہ اگر وہ اپنے آپ کو میرے سامنے فروتن  کریں اور  مجھ پر ایمان لائیں ، تب میں کمزوریوں کو مضبوطی میں بدل دوں گا ۔ ہم کمزوریوں کواپنی ۔  حکمت ، قوت اورتقدس  کیلئے  محدودات تصور  کرتے ہیں جو انسان ہونے کے ناطے آتی ہیں ۔ فانی انسان ہونے کے ناطے ہم بے یار و مددگا ر اور دوسروں پر انحصار کرنے والے ، بہت سارے جسمانی نقائص اور غبتوں کیساتھ پیدا ہوئے ہیں ۔ ہم دوسرے کمزور فانی لوگوں سے پروان چڑھتے اور گھرے ہوئے ہیں ، اور اُن کی تعلیمات ، نمونے اور ہم سے سلوک ناقص اور بعض اوقات نقصان پہنچانے والے ہیں ۔اپنی کمزوری فانی حا لت میں ہم جسمانی اور جذباتی بیماری ، بھوک اور تھکن میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ ہم انسانی جذبات جیسے غصہ ، دکھ ، اور خوف کا تجربہ کرتے ہیں ۔ ہم میں حکمت ، مہارت ، ، قوت اور طاقت کی کمی ہے ۔ اور ہم مختلف آزمائشوں کے ماتحت ہیں ۔

اگر چہ  وہ بے گناہ تھا، تو یسوع مسیح مکمل طور پر ہماری فانی کمزوریوں میں شامل ہو گیا ۔۔۔

وہ ایک بے یارومددگار شیر خوار کے طور پر فانی بدن میں پیدا ہوا اور غیر کامل لوگوں کی حفاظت میں پرورش پائی۔اُس کو چلنا ، بات کرنا ، کام کرنا اور دوسروں کے ساتھ ملنا جلنا  سیکھنا  پڑا ۔  اُس کو بھوک بھی لگی  اور وہ تھکا بھی ، انسانی جذبات کو بھی محسوس کیا ۔ اور بیمار بھی ہوا ہو گا ، تکلیف اُٹھائی ، خون بہایا اور مرا۔ “سب باتوں میں  ہماری طرح آزمایا گیا ، تو بھی بے گناہ رہا “خود کو فانیت  کے تابع کرتے ہوئے تاکہ وہ  ہماری کمزوریوں کے احساس  سے چھوا جائے ” اور ہمیں  کمزوریوں اور کوہاتیوں  میں اُٹھا سکے ۔۔۔۔

فروتنی اور ایمان کی مشق کرنا ۔

ہمارے ابتدائی  کلیسیائی  تجربات  سے ، ہمیں  توبہ کے اہم عناصر سکھائے گئے ہیں ، مگر ہم کتنا مکمل طریقے  سے فروتنی  اور ایمان  کی پرورش  کرتے ہیں ؟ درج ذیل کے بارے  سوچیں۔

غور کریں اور دعا کریں ۔

تر جیحات

منصوبہ

باصبر مشق

 کمزوری سے مظبوطی

غورکریں اور دعا کریں ۔

کیوں کہ ہم کمزور ہیں تو ہم نہیں جان سکتے اگر ہم گناہ کے ساتھ یا کمزوری کہ ساتھ دور چار ہیں ۔ یہ چیزیں جن کو ہم دیکھتے ہیں ان کا انحصار ہماری پرورش اور بالیدگی پر کس طرح  سے ہے ۔ ہو سکتا ہے اِس ایک رویے میں گنا ہ اور کمزوری کی علامتیں ہوں ۔ یہ کہنا کہ گناہ ہی ایک کمزوری ہے تو یہ توبہ کی بجائے جو ازیت پسندی کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔ یہ کہنا کہ گناہ ایک کمزوری ہے اِس کا نتیجہ ہما ری شرمساری ، الزام ، مایوسی اور خدا کے وعدوں کو ترک کرنا ہے ۔ غور وخوض کرنے اور دعا کرنے سے ہمیں اِن کا امتیاز کرنے میں مدد ملتی ہے ۔

ترجیحات

چونکہ ہم کمزور ہیں اِس لئے ہم اپنی ضرورت کردہ تبدیلی کو ایک دم نہیں بدل نہیں سکتے ۔ جب ہم فروتنی اور وفاداری سے بعض اوقات مختلف کمزوریوں کے پہلووں سے نبرد آزما ہوتے ہیں ،  تو ہم بتدریجی  طور پر  جہالت کو کم کرتے ہیں ، اچھی عادتوں کو فروغ دیتے ہیں ، اپنی جسمانی اور جذباتی صحت اور قوت کو بڑھاتے ہیں ، اور خداوند  پر  اپنے  بھروسے کو مضبوط   کرتے ہیں ۔ ہمیں کہاں سے شروع  کرنا ہے یہ جاننے  میں خدا  ہماری مدد کر سکتا ہے ۔

منصوبہ

کیوں کہ  ہم  کمزور ہیں ، مضبوط ہونے  کےلئے ہمیں  راست  باز ہو نے  اور بہت  زیادہ  ذاتی  نظم  وضبط  کی خواہش  کی ضرورت  ہے ۔ ہم منصوبہ سازی ، غلطیوں سے سیکھنے ، زیادہ  پر اثر حکمت  عملیوں  کو فروغ دینے ، اپنے منصوبوں  کو دہرانے ، اور پھر  سے  کو شش  کرنے  کی بھی ضرورت  ہے ۔

باصبر مشق

حتی کہ جب ہم مخلصی سے  اپنے  گناہوں سے توبہ  کرتے  ہیں ، معافی  پاتے ہیں ، اور پھر  سے  صاف  ہوتے ہیں ، تو کمزور  رہتے ہیں ۔ ابھی تک  ہم بیماری  ،جذبات  ، نظر اندازی ، رغبت، تھکن  ، اور آزمائش  کے ما تحت   رہتے ہیں ۔ مگر کمزوریاں  اور  کوتاہیاں گناہ نہیں ہیں  اور ہمیں روح  کے اہل  ہو نے  اور پاک  صاف  ہونے  نہیں روکتی ہیں ۔

کمزوری سے مضبوطی

اگرچہ شیطان اِس بات کا خواہش  مند  ہے  کہ ہماری کمزوریوں کو اُبھارکرہم سے گناہ  کروائے ، جب کہ خدا انسان کی کمزوریوں کو سکھانے ، مضبوط کرنے اور برکت  دینے کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ اُس، کے بر عکس  جس  کی ہم توقع  یا اُمید  رکھتے  ہیں ، خدا ہمیشہ  ہما ری  کمزوریوں کو دور کر کے ” کمزور چیزوں  کو مضبوط  نہیں بناتا ہے ”  جب پولوس رسول  نے بار بار  خدا  سے  دعا   کی کہ خدا  میرے ” بدن سے  کانٹے  کو نکالے  جو اُسے  چبھویا گیا ہے ، خدا نے  پولوس  کو بتا یا ، ” میرا   فضل  تیرے  لئے کافی  ہے  کیو ں  کہ  میری قدرت  کمزوری  میں  پوری  ہوتی  ہے  2 کرنیتھوں  9باب 7سے 12 آیت سے

خدا کی محبت  ، دانائی اور مخلصی کی قوت کا اِس سے بڑھ کر کہیں اور ثبوت نہیں مل سکتا  جتنا  اُس  کی قابلیت  میں کہ وہ انسانی  کمزوری  کے ساتھ ہماری  کوشش  کو انتہائی  گراں  قدر  خدائی خوبیوں  میں تبدیل  کر دیتا ہے  جو ہمیں  زیادہ  سے زیادہ  اُس  کی مانند  بناتی ہیں