جوزف سمتھ ۔میسح مسیح ،آسمانی باپ

جوزف سمتھ ۔میسح مسیح ،آسمانی باپ

 

میں ہمیشہ یا شروع سے مورمن نہیں تھا۔ٍ

یہاں تک کہ یہ ختم نہیں ہوا ،مجھے تین بار مختلف کلیسیاؤں میں بپتسمہ دیا گیا اور میں نے تقریبنا ہر کتاب سے گیت گائے۔ امیں نے الطار پر بھی عبادت کی ، میں نے پہاڑوں پر مسیحی پہاڑ بنائے اور ابھی تک کر رہے ہیں ۔میں نے کوائر کے ساتھ مل کر انجیل کے گیت گائے ۔اور اس راستے پر میں نے قدم بہ قدم آگے یہاں تک پہنچا ہوں جہاں میں اب ہوں اور جہاں میں جا رہا ہوں۔
ہر مذہب ، کلیسیا ، واعظ نے مجھے آگے بڑھنے میں مدد کی اور ان سب سوالات میں رہنمائی کی جن کے جواب حاصل کرنے کی میں نے درخواست کی تھی اور آہستہ آہستہ، تھوڑا تھوڑا مسیح میں تبدیل ہوتا گیا ، اور میں ابھی تک یہ کر رہا ہوں ۔

کلیسیائے یسوع مسیح برائے مقدسین آخری ایام میں میرا بپتسمہ میرے ماتھے پر مہر نہیں لگاتا ، ’’اچھا ہے چلتے رہو ، تم پاس ہو گئے ہو ، ایمان داری کے متعلق میں بہت کم جانتا تھا سوائے اس حقیقت کے میں جانتا ہوں کہ یہ سچی کلیسیا ہے ۔ میں نے وہ روح محسوس کی جو میں نے پہلے کبھی بھی محسوس نہیں کی تھی ۔ مجھے وہ نور اس قدر پسند تھا کہ یہ صرف ، روز مرہ سفر اور تبدیلی کے آغاز کا سلسلہ ہے ۔

اس کی وجہ سے آپ میریپریشانی پر غور کر سکتے ہیں جب میں نے ۲۰۱۰ کے موسم خزاں میں سیکھا کہ زندگی کے آخر میں جوزف سمتھ کی بہت سی بیویاں تھیں ۔ آپ خیال کر سکتے ہیں کہ میں مورمن کی کتاب کی کلاس کے دوران کرسی پر کیسے سکڑ گیا تھا اور جلدی سے ، اپنے آپ کو برف باری اور اپنے منجمد آنسوؤں کو چھپاتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا کیونکہ میں خفا تھا۔

انہوں نے مجھے اس کے متعلق نہیں بتا یا تھا ۔ میں نے اپنے دانت پسیج لیے۔ میں یقیناٰ علم تھا کہ ہماری کلیسیا کی تاریخ میں کثیر البیغمات کا رواج تھا جس طرح یہ بائیبل کی تاریخ کا حصہ ہے یہاں تک کہ بت پرستوں کی تاریخ کا بھی حصہ ہے ۔ لیکن جوز سمتھ؟ میرا نیا ہیرو؟

یوں لگا جیسے کہ سب کچھ ختم ہو گیا ، اور اسی طرح ایک بہت بڑا عفریت تھا ۔ میں ٹوٹ گیا ۔ مجھے حیرت تھی کہ میں گھر چلا جاؤں ۔ اس کے بعد بھی میں کلیسیا کا رکن رہنا چاہے۔ میں نے بہت دعا کی ۔ میں حیران تھا کہ اتنی بڑی بات اب تک مجھ سے چھپائی گئی ہے ۔

کیونکہ ان احساسات کی وجہ سے میں ایک مددگار کی طرف گیا جو میراقریبی تھا اور جس پر مجھے سب سے زیادہ اعتبار تھا ۔ میں اپنی پریشانی اسے بتائی اور نیان کیا کہ میں اسے کس قدر بے وفائی محسوس کرتا ہوں ۔اور اس نے صرف ایک بات کہی ۔ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ نبی ہے ؟

ہاں ، میں نے بغیر سوچے جواب دیا ۔ کیونکہ میں جانتا ہوں ، کہ میں وہ احساس کبھی نہیں بھول سکتا جو نبی جوزف سمتھ کی گواہی پڑھنے اور سنننے پر پہلی بار محسوس کیا تھا ۔ جب اس نے درختوں جھنڈ میں جا کر دو زانوں ہوکر دعا کی ۔ میں وہ اطمینان نہیں بھول سکتا جو میں مورمن کی کتاب کا اخری صفحہ پڑھنے کے بعد محسوس کیا اور وہ باتیں جو میں راستے میں کھو دیں ۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسا کہ میرا بستر گھرا ہوا ہے اور شادمانی کا ایک کورس گا رہا ہوں ،بے شک وہ ایک نبی ہے ۔مجھے کوئی شک نہیں کہ اس کو سب کچھ بحال کرنے کے لئے چنا گیا تھا جو کھو گیا تھا اور گزشتہ برسوں میں بگڑ گیا تھا ۔

جب میں نے ہاں کہا تو میرے مشیر نے سر ہلایا اور اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ’’ ، پھر ہمارا جواب یہ ہے ‘‘ اور اس نے مجھے حوصلہ دیا کہ میں آنے والی سیر پر جاؤں ۔ ایک ہفتہ پر محیط کلیسیا کی تاریخ کے لئے ایک سیر تھی جو الناؤس سے شروع ہوگی ۔ ایک ایسی جگہ جہاں پہلی بار ارکان نے قیام اور عبادت کی اور ایک ہیکل تعمیر کی اور پھر مغرب کی طرف ایک خطر ناک سفر کا آغاز کیا ۔ میں دوبارہ سوچے بغیر روانہ ہوا۔

اور میں اس جگہ پر تھا جہاں میں نے وہ سب اچھا، برا ، بد صورت وجوہات بھی سیکھیں ۔ جسے وہ اپنے رحم اور نذر کے لئے جانے جاتے تھے ۔ آپ بچوں کے ساتھ کھیلتے اور اپنی محبوبہ ایما کو محبت کے خطوط لکھتے تھے اور پھر برے دن آئے اور وہ زمانہ آیا جہاں کچھ نا سمجھ اور بے نام واقعات رونما ہوئے تھے ۔میں نے اس جگہ قیام کیا جہاں اس نے وفات پائی ۔
میں نے ہر اس مجسمے کو چھوا جو اسکی قربانی کو سلام کرتا ہے ۔

میں ان سیڑیوں پر با ادب کھڑا ہوا جہاں سے ہجوم کا طافان اس کی طرف بڑھا ، جہاں جوزف اوروں سمیت چھپ گیا تھا ۔ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں جو سب کچھ ختم کرنے کے لئے تیار تھے ۔

اور اس کی آخری قیام گاہ پر سکونت کی ، ان ہواؤں سر گوشیاں سنیں اور جنلی پھولوں کی خوشبو سے معتر ہوئے جو ہر سال ان پتھروں کے پاس کھلتے ہیں ۔

مجھے اس سے پہلے سے زیادہ محبت تھی جبکہ اب مجھے زیادہ علم بھی تھا ، جیسے کہ ابراہام ، یعقوب ، سلیمان داؤد اور بہت سے اور جو بکثرت زوجوات کے ساتھ سر بمہر ہوئے ہیں ، یہ وجوہات آج ناموافق دکھائی دیتی ہیں ۔ گزشتہ انبیاء کی طرح اس نے بھی وہ کام کیے جو جدید دور میں پریشان کرتے ہیں ، یہ سب خداوند کے لئے کیا ۔گزشتہ انبیاء کی منند اس نے خدا کو پہلا درجہ دیا ۔یہاں تک کہ جب آپک ی شہرت کم کرنے کی دھمکی تھی یہاں تک کہ جب وہ ذبح کیے جانے اولے برے کی مانند تھا ۔ پہلے آنے والے نبیوں کی مانند آپ نے سچائی بیان کی ۔ اآپ نے خدا کو پہلا درجہ دیا ، نجات دہندہ کے علاوہ اس کا کوئی اور نجات دہندہ نہیں تھا ۔اس وجہ سے میں نے اس کے مقبرے پر قیام کیا اور ایک سو پچاس برس بعد ، میری اانکھوں میں آنسو تھے ، میرا دل انجیل سے منسلک تھا جسے میں اس کے بغیر کبھی نہیں جان سکتا تھا ۔

نجات دہندہ مشہور نہیں تھا ، اور وہ ابھی بھی نہیں ہے ، موسیٰ بمشکل بول سکرتا تھا ، ابینادی کو آگ میں جلا دیا گیا تھا جب اس نے اانے والے مسیحا کی پیشن گوئی کی تھی ۔ لوگ نوح پر ہنستے اور اسکا مذاق اُڑایا جب اس نے طوفان کی بات کی تھی ، اور سورج کی روشنی میں کشتی بنائی تھی، مگر وہ خدا کے خادم تھے

اور اس وجہ سے مجھے ان سے محبت ہے ۔

اگر آپ شک کی وجوہات تلش کرتے ہیں تو ہمیشہ ایک عکس رہے گا ، یا خوف رہے گا ، یا اس سوچ میں اپنی ناک پر شکنیں ڈالیں گیں۔ شیطان کے پاس ایک ہی چیز ہے جس وہ آپ کو راغب کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے ، یہ سب جھوٹ ہے ، یہ صرف ایک عمل ہے ۔

لیکن سچائی کی روح ہمیں ، محبت ، سچائی ، تعلیم ، یاد دلاتی ہے ۔ گیت کے اس حصے میں خوف ذدگی ہمیں یاد دلاتی ہے ، ’’ لاکھوں ہیں جو بھائی جوزف کو پھر جانیں گے ‘‘ اس لئے میں کہتا ہوں کہ اس شخس کی جے ہو جس نے یہواہ سے بات کی تھی ۔

تعریف اور عزت جو اس شخص کو دی گئی جو ہمیں مسیح کی یاد دلاتا ہے اور جس کے ہاتھ الجھے ہوئے کھیل میں بڑی شفقت سے موزوں ٹھہرتے ہیں ۔
اس شخس کی تعریف ہو جس نے آسمانی باپ کی محبت سکھائی اور اس کے راستے بتائی یہاں تک کہ اس رات جب اس کے لک جلا کر یا گرم کرکے اس کے بدن پر لگائی گئی ۔
اس کی توقیر کی گئی جس نے یہ پہلے بیان کیا کہ خاندان ، قبر کے بعد بھی ہمیشہ تک رہیں گے ۔ یہ کہ میرا والد ، میرے کزن آپ کی والدہ آپ کے بھائی ہمارے دوست جو ہم سے پہلے گئے ہیں سب خدا کو دیکھیں گے ۔

اس سے محبت کرنے کے لئے مجھے ان سب باتوں کو جاننے کی ضرورت تھی۔

اس مضمون کو اس کےاصلی لنک سےپڑھنےکے لیے یہاں کلک کریں ۔lemmonythings.com

Pin It on Pinterest

Share This