بپتسمہ

بپتسمہ

سوال
معزز بزرگوں

جب ایک شخص کو بپتسمہ دیا جاتا ہے ۔ کیا خدا ان گناہوں کو بھی لازمی معاف کرتا ہے جن سے توبہ نہیں کی ؟ یا کیا ہر کوئی فونٹ سے صرف چند گناہوں کی معافی حاصل کرکے باہر آتا ہے ؟ کیا بپتسمہ در اصل ایک بار اس معاملے کو ختم کرتا ہے [ یعنی ایک بار ہی گناہ معاف کرتا ہے ]۔جیل سے آزادی حاصل کر لو کارڈ کے ذریعے یا حقیقت میں یہ کیسے کام کرتا ہے ؟

رابرٹ

جواب
پیارے رابرٹ
ساکرامنٹ اور ہیکل کی رسوم کی طرح بپتسمہ ایک رسمی ڈرامہ ہے جس میں ہم اپنی زندگی میں اپنے کام کو سیکھنے کے کردار ادا کرتے ہیں ۔ یہ اسکے دل کی بات ہے ۔ یہ ایک کھیل یا ڈرامہ ہے جس میں موت اور نئی پیدائش [پھر جی اٹھنا] ظاہر ہوتی ہے وہ کچھ جس کے بارے میں ہم اس موسم میں یا اسوقت سوچ سکتے ہیں ۔ کہ رات کو سال ختم ہو رہا ہے ۔ جنگل میں گھنٹیاں بج رہی ہیں اور اسے مرنے دے رہی ہیں ۔بچے کو صرف بمع اسکی تمام امیدوں کے اسکی پہلی سالگرہ پر خوش آمدید کہتے ہیں ) پولوس ہمیں بتاتا ہے کہ جب ہم غوطے کے سٹیج کی طرف قدم بڑھاتے ہیں ، ہم میں سے بہت سوں نے یسوع مسیح میں بپتسمہ لیا ہے اور انہوں نے اسکی موت میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا ہے کیونکہ جب ہم اسکی موت کی مشابہت سے اسکے ساتھ پیوستہ ہو گئے تو بیشک اسکے جی اٹھنے کی مشابہت سے بھی اسکے ساتھ پیوستہ ہونگے۔ ( رومیوں ۔ ۶۔ ۳۔۵)

کیونکہ جب ہم اسکی موت کی مشابہت سے اسکے ساتھ پیوستہ ہو گئے تو بیشک اسکے جی اٹھنے کی مشابہت سے بھی اس کے ساتھ پیوستہ ہونگے۔( رومیوں ۔ ۶۔ ۳۔۵)۔ہم یسوع کا کردار ادا کرنے کے لئے پانی میں داخل ہوتے ہیں ۔ اس پہلے عمل میں کوئی اور اسکی جگہ نہیں لے سکتا ۔مسیح کی موت سے پہلے زندگی کو آمین کہتے ہیں ۔آدم ، نوح، ابراہام، یسعیاہ اور دوسرے راستباز تھے اور قبر میں چلے گئے اور وہاں ہی رہے۔ ہم اس کردار کو اس ایکٹر کو پانی میں ڈبونے اور اسے وہاں ہی چھوڑنے سے دیکھ سکتے ہیں ۔ ایسا کردار کوئی نہیں لے سکتا ۔ پس ہم مسیح کے کردار کی بجائے اسکا رول ادا کرتے ہیں ۔ اسکا کردار پانی کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور فتح مندی سے پھر اٹھایا جاتا ہے ۔
بطور ایک رسم ، یہ چھوٹا سا ڈرامہ عہد میں برکت کا حصہ ہمیں دکھاتا یا ظاہر کرتا ہے ۔ کہ جس طرح مسیح جلالی بدن کے ساتھ قبر سے جی اٹھتا ہے ، اسی طرح ہم بھی پہلی قیامت کے آغاز میں ہی جلالی حالت میں جی اٹھیں گے ۔

پولوس کی طرف لوٹتے ہوئے، ہماری آنکھوں کے سامنے ایک اور کھیل سے پردہ اٹھتا ہے جبکہ پہلا اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب ہم پہلے کھیل میں قدیم غلام کا رول ادا کرتے ہیں ۔ ہاں ۔۔۔کیونکہ جب تم گناہ کے غلام تھے تو راستبازی کے اعتبار سے آزاد تھے(رومیوں ۔۶؛۲۰)۔ وہ فرماتا ہے جس طرح تم نے اپنے اعضابدکاری کرنے کے لئے ناپاکی اور بدکاری کے حوالے کیے تھے ( رومیوں ۶۔ ۱۹)اس کھیل میں قبر پر فوکس نہیں کیا جاتا لیکن موت پر یقینا [فوکس کیا جاتا ہے ]۔ قدیم غلام کو صلیب دی جاتی ہے ، ہم یہاں پروڈکشن کے معیار پر شکایت محسوس کرسکتے ہیں ۔ پانی کمزور زمینی قبر کے مشابہ ہے ، اور یہاں تک کہ صلیب کے کمزور ترین مشابہ پے۔

اور پھر بھی پولوس رسول اس منظر کو بہت اچھی طرح سے دیکھتا ہے اور سامعین کے لئے اس بیان کرتا ہے ، چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری پرانی مسیح کے ساتھ اس لئے مصلوب کی گئی کہ گناہ کا بدن بیکار ہو جائے۔ تاکہ آگے کو ہم گناہ کی غلامی میں نہ رہیں کیونکہ جو موا وہ گناہ سے بری ہوا۔( رومیوں ۶۔ ۶۔۷)دراصل، پہلا عمل استاد کے اپنے غلام کے عوضانہ ذمہ داری سے ادا کرنے سے پورا ہو گیا۔ کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے مگر خدا کی بخشش ہمارے خداوندیسوع مسیح میں ہمیشہ کی زندگی ہے ۔( رومیوں ۶۔ ۲۳)

دوسرا عمل شروع ہوتا ہے اور ہمیں نئے آف سٹیج یا سٹیج سے دور ماسٹر کا تعارف کرایا گیا ہے ۔ (کہانی کے اس نسخہ میں گناہ پھر مشکل نہیں تھا ۔)ہم نے جو کردار ادا کیا ، اب وہ خدا اور اسکے راستباز گھرانے کی غلامی ہے ۔ گناہ سے آزاد ہوکر راستبازی کے غلام ہو گئے ۔ اور حالات بہت بہتر ہیں ۔ بطور خدا کے خادم اب تم کو گناہ سے آزاد اور خدا کے غلام ہو کر تم کو اپنا پھل ملا جس سے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور اسکا انجام ہمیشہ کی زندگی ہے ۔ ( رومیوں ۶۔۱۸، ۲۲ ) ایک دفعہ پھر رسم کا حصہ بنا کر ہمیں یہ ڈرامہ وہ عنایت دکھاتا ہے جو ایک عہد کا پارٹ بن کرہم حاصل کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ساکرامنٹ کی دعا میں بہت واضع بیان کیا گیا ہے ۔ کہ ہم خوشی سے مسیح کا نام اپنے پر لیتے ہیں اور اسے اپنا استاد قبول کرتے ہیں ، اس وعدہ کے ساتھ کہ ہم اسے ہمیشہ یاد رکھیں اور اسکے حکموں کو مانیں جو اس نے [ہمیں ] دیے ہیں ۔ ( تعلیم اور عہود۔ ۲۰۔ ۷۷

نیفی ایک اور کھیل کا تعارف کراتا ہے یسوع پھر اپنا معاوضہ ادا کرتا ہے مگر ایک کردار کی نئی تفسیر کے ساتھ۔ جہاں ہم نے مسیح کی خدمت کے آخر میں موت پر غالب آنے یا فتح پانے کا ایک فتح مند رول ادا کیا تھا۔ اب ہم یسوع کی اپنے باپ کی مرضی کے تابعداری کر کے عاجزانہرول ادا کرتے ہیں ۔ یہ اس سے بہتر ہے ۔ یہ کھیل میں ایک اور کھیل ہے اور تم یسوع کو پیش کرتے ہو۔ ہمارا یسوع دکھاتا ہے کیا تم نہیں جانتے کہ وہ پاک تھا ؟ لیکن اگرچہ وہ پاک ہے تو بھیاس نے بنی آدم پر یہ ظاہر کرنے کے لئے جسمانی ہو کر باپ کے سامنے اپنے آپ کو فروتن کیا اور اسکے احکام پر چلنے میں فرمابرداری ظاہر کی ۔ ( ۲ نیفی۔ ۳۱۔ ۷ )

اسی موضوع پر کام کرتے ہوئے ، بطور اس کھیل کے کردار کیمسیح کا رول ادا کرنے سے بپتسمہ لے کر اپنا رول اچھے طرح سے پورا کریں ۔ سو میری پیروی کرو اور وہ کام کرو جو تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔یسوع نے نیفی سے کہا جس پر نیفی نے زور دیا کیا باپ [خدا ]کے حکموں کی خوشی کے ساتھ تابعداری کے بغیر ہم بشمول بپتسمہ یسوع کی پیروی کر سکتے ہیں ؟ (۲ نیفی۔ ۳۱ ۔ ۔ ۱۰۔۱۲ )۔ہم بطور مسیح کے شاگرد کھیل میں جوہر ہیں ۔ بطور عہد کی رسم کے حصہ دار ، ہم اسے یاد کریں اور اس کی پیروی کرنے کا وعدہ کرتے ہیں ۔

یوحنا جما لیاتی رسائی رکھتا ہے اور اسے مثلثیات کا حصہ بناتا ہے ۔ یہ آسان یا سادہ ہے کہ پیدائش پر ایک ایکٹ کا ڈرامہجس میں ہم بڑے بچے کا کردار ادا کرتے ہیں ( میں نے بتایا تھا کہ یہ فن ہے)۔ کردا ر پھر سے زندہ ہونا چاہیے ۔سو وہ رحم کے پانی میں داخل ہوتا ہے ، اور روح اور پانی سے پیدا ہوتا ہے ۔ جب وہ خدا کی بادشاہی دیکھتا ہے تو پردہ گر تا ہے۔ ( یوحنا۔ ۳۔ ۳۔۵)یہ اسکا متواتر حصہ ہے۔ خداوند نے ہمارے لئے اس کہانی کی تین حصوں میں وضاحت کی ( ہم یہاں صرف ایک کو پلے کر رہے ہیں ) ۔ ہم پانی ، خون اور روح سے پیدا ہو کر دنیا میں آتے ہیں ۔۔۔اور پھر ۔۔۔ایک جیتی جان بنتے ہیں ۔ ہمیں پھر آسمان کی بادشاہی میں پانی اور روح سے پیدا ہونا چاہییاور خون کی ذریعے صاف ہونا چاہیے یہاں تک کہ میرے اکلوتے کے خون سے۔ ( موسیٰ ۔ ۶۔ ۵۹۔ ۶۰) ۔ بطور ایک رسم یہ ڈرامہ ہمیں دکھاتا ہے کہ خدا وعدہ کرتا ہے کہ وہ ہمیں اپنا روح عطا کرے گا اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم یسوع مسیح کے کفارہ کے خون کو اطلاق کریں گے ۔

خدا نے حکم دیا ہے کہ اسکے تمام ذمہ دار بچے سٹیج سمبھالیں اور اس ڈرامے کو پلے کریں مگر ہمیں اس کو پہچاننے میں اتنے حساس ہونا چاہیے کہ یہ ایک کھیل یا ڈرامہ ہے شاید زیادہ مناسب یہ کہ ، کہ یہ ایک کھیل ہے یہ ایک کشمکش ہیجبکہ یہ حقیقی چیز کی تیاری کے لئے مفید ہے ۔ اگر ہم خدا کے ہسپتال میں داخل ہوں اور اسے بتا دیں کہ میں ڈاکٹر نہیں ہوں ، مگر میں نے ٹی وی پر اس رول کو ادا کیا ہے جتنی بہتر امید کر سکتے ہیں کہ بطور ایک مریض داخل ہوں ۔ یہ سوچنا مضحکہ خیز ہوگا ۔ ہمارا مطلب ہے کہ ایک انتظامی حالت۔ پس ہمیں ان کہانیوں کے نتیجے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ۔ ہمیں گناہ کی خدمت ترک کرنی چاہیے ۔ہمیں مسیح کی پیروی کرنے کی خدمت کرنی چاہیے۔ہمیں باپ کی تابعداری کرنی چاہیے۔ ہمیں راستبازی ، خدا اور مسیح کے خون کے زریعے مکمل طور پر صاف ہونا چاہیے ۔ نیفی اس کو اچھے طریقے سے بیان کرتا ہے۔ سب کچھ ہو چکا ۔دیکھو میں تم سے کہتا ہوں نہیں کیونکہ تم یہاں تک نہ پہنچتے سوائے اس کے کہ مسیح کے کلام کے وسیلے ، اس پر مضبوط ایمان رکھتے ہوئے ،پورے طور پر اسکی نیکیوں پر توکل کرکے جو بچانے کی قدرت رکھتا ہے ۔ پس ضرور ہے کہ تم امید کی کامل چمک اور خدا اور تمام آدمیوں سے محبت رکھ کر مسیح میں ثابت قدمی سے آگے بڑھتے رہو ۔ ہم نے بپتسمہ میں رول ادا کرنے کے لئے جو تیاری کی تھی ۔ اور اب ہمیں اسے جاری رکھنے کی ضرورت،جیسا کہ ہم نے وہ کچھ بننے کا بہانہ کیا تھا ، جو کچھ ہمیں بننا چاہیے۔

بپتسمہ کسی قسم کا [طریقہ نہیں ] جس سے ، جیل سے آزادی ملتی ہو ۔ کارڈ ضروری شرط اول کے بغیر یہ بے معنی ہے ۔ انہیں خدا کے سامنے حلیم بننا چاہیے ۔اور بپتسمہ لینے کی خواہش ، اور شکستہ د ل اور پشیمان روح کے ساتھ آنا چاہیے ۔ اور کلیسیا کے سامنے گواہی دینی چاہیے کہ اس نے اپنے تمام گناہوں سے سچی توبہ کی ہے ۔اور یسوع مسیح کا نام اپنے پر لینے کے لئے تیار ہے ۔اور آخر تک اسکی پیروی کرنے کے لئے مصمم ارادہ رکھتے ہیں ۔اور سچائی سے اپنے کاموںسے ظاہر کرتے ہیں ۔اور انہوں نے اپنے گناہوں کی معافی کے لئے مسیح کا روح پایا ہے ۔( تعلیم اور عہود۔ ۲۰۔ ۳۷ )۔
بپتسمہ کے وقتاور اسکے بعد ، حقائق اور حرمت کے اصول ان گناہوں کے لئے کام کرتے ہیں جن کے کامل توبہ کی گئی ہے [ اور نئے آقا کی تابعداری کے ڈراموں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ]۔نیز کسی بھی اور گناہ کے لئے جس سے اب توبہ کی جا رہی ہے ۔ ( دوبارہ پیدائش کے ڈرامہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے [ بادشاہت دیکھ کر]
جیسا کہ تم نے نوٹ کیا ہے ، کہ بپتسمہ ہمارے لئے صرف ایک ہی بار رونما ہوتا ہے ۔ پس خداوند رحیم ہے اور ناس نے ایک اور رسمی ڈرامہ عطا کیا ہے ، جس پر ہفتہ وار عمل کیا جاتا ہے جہاں خداوند کی قربان گاہ پر شاگرد کا عجیب رول ادا کرتے ہیں۔ اس رسم میں ہم اپنے عہود کا اعادہ کرتے ہیں ( دیکھیں ۔ ساکرامنٹ۔روح کے لئے تجدید۔ چائل اے اسپلین، جنرل کانفرنس اکتوبر ۲۰۱۴ ) اور ان کرداروں کا انٹرویو ہے کہ ہمیں کیا ہونا چاہییْ کون ہے ؟ کیا خداوند ہے ؟

اس مضمون کو اس کےاصلی لنک سےپڑھنےکے لیے یہاں کلک کریں askgramps.org

Pin It on Pinterest

Share This