وہ جہ اُٹھا ہے

وہ جہ اُٹھا ہے

میرا اس مختصر سے مضمون کو شئر کرنے کا مطلب بس آپ سب لوگوں کی رہنمائی کرنا اور سچائی بتانا ہے
کہ یسوع مسیح کا کفارہ بس مسیحیوں ہی کے لیے نہیں بلکہ تمام جہانوں کے لیے تھا۔جو ہم سے پہلے ہوکر گزر گئے اور جتنے باقی اس زمین پر موجود ہیں اور ان تما م کےلیے بھی جو ہمارے بعد آئے گے ۔

کیا یسوع مسیح موہ۔

بالکل نہیں میں آپ کو بتانا چاہتاہوں جس دن یسوع مسیح کو صلیب دی گئی اس دن یسوع مسیح کو موت نے شکست نہیں دی بلکہ اس دن موت ہار گئی تھی اور جس طرح کر نتھیوں میں لکھا کہ مسیح مردوں میں سے پہلا پھل ہوا۔ اور مسیح کے موت پر غالب آنے کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ ہم سب بھی مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھے گے جس طرح وہ جی اُٹھا۔

کفارہ کس طرح سے ہمارے مدد کرتا ہے ۔

    ہم سب اکثر سوچتےہوں کہ کفارہ کیا ہے اور کس طرح سے ہماری مدد کرتا ہے۔ تو کفارہ مسیح کے ہمارے لیے دکھ اُٹھانے کی اور ہمارے لیے صلیب پر جان دینے کو کہتے ہیں۔ کہ مسیح نے ہم تمام  کی خاطرصلیب پر جان دی مر گیا اور پھر تیسرے دن مردوں میں سے جی اُٹھا اور مردوں میں سے پہلا پھل ہوا۔اور مسیح کا ہم تمام لوگوں سے وعدہ ہے جو کو ئی بھی سچے دل سے توبہ کریں اور پشیماندہ روح سے میرے پاس آئے اور کفارہ کی اہمیت کو سمجھےتومیں اسے زندگی کا تاج دوں اور اپنے باپ کے سامنے اُس کا اقرار کروں گا۔

اور سب سے اہم بات مسیح کا کفارہ تب ہم سب کی زندگیوں کو بدلتا ہے جب ہم توبہ کرتےہیں اور اُس کے حکموں کو ماننے کی کوشش کرتےہیں۔اور خود کو تبدیل کرنے کی کوشش کر تےہیں۔
یہ معنی نہیں رکھتا ہم کون ہیں یا کون تھے امیر ہیں غریب ہیں کالے ہیں گورے ہیں مسیح کا کفارہ ہر ایک کی زندگی کو بدلتا ہے اگر ہم اس کے پاس آتے ہیں وہ ہم سے بے انتہا پیار کرتا ہے ۔
اور خدا دنیا سے ایسی محبت رکھتا ہے کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کو ئی بھی اس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہوں بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے ،(یوحنا3:16آیت)آمین۔