ہم سب کو جاننا چاہیے کہ جنسی مواد کا میڈیا پر کیسے دفاع کرنا ہے۔

ہم سب کو جاننا چاہیے کہ جنسی مواد کا میڈیا پر کیسے دفاع کرنا ہے۔

 

عشرہ پہلے میں جنرل کانفرنس میں فحش نگاری کے بارے پیغام دیا ۔ میں نے اپنی آواز کو اُن رہنماوں کے ساتھ شامل کیا جہنوں نے فحش نگاری کی روحانی تباہ کاری کے خلاف ہممیں آگاہ کیا ہے ۔ بہت سارے مرد اور لڑکیوں کو “ناجائزجنسی تعلقات میں جذباتی مواد” نے متاثر کیا ہے۔

کسی بھی قسم کی فحش نگاری  ایک برائی ہے – یہ روحانی حساسیت کی تباہی ہے ، یہ کہانتی طاقت کی مشق کی قابلیت کو کمزور کرتی ہے اور یہ قیمتی تعلقات کو نقصان پہنچاتی ہے ۔

اب میں کافی سالوں بعد شکرگزار ہوں ۔ کہ بہت سارئ نبوتی باتیں،فحش نگاری جیسے دھبوں سے پاک صاف ہیں۔

میں اس بات کے لیے بھی شکرگزار ہوں کہ بہت سارے لوگوں نے ان نبوتی دعوتوں پر توجہ دی اور فحش نگاری سے بچ گئے ،شکستہ دلوں اور تعلقات کو جوڑا، اور شاگردیت  کی راہ میں آگے بڑھتے گئے اور میں ان کے لیے زیادہ فکرمند ہوں جو آج بھی ہمارے درمیان فحش نگاری کا شکار ہیں،خاص طور پر نوجوان اور حتیٰ کہ ینگ وومن کی بڑھتی ہوئی تعداد۔

فحش نگاری کے مسلے کے بڑھنے کی بنیادی وجہ آج کی دنیا میں یہ ہے کہ، جنسی مواد کے ساتھ الفاظ و تصاویر اور ان کا اثر ہر جگہ پر ہے : وہ فلموں ، ٹی وی پروگرامز،سوشل میڈیا، ٹیکسٹ میسجز، فون اپیلی کیشنز، اشتہارات ، کتابیں، موسیقی ، اور روزانہ کی گفتگو۔ نتیجہ کے طور پر ، یہ ناگزیز ہے – آج نتیجہ کے طور پر ہم سب کا واسطہ لازمی طور پر جنسی پیغامات سے رہتا ہے ۔

1-ملوث ہونے کے معیارات

آج میں اس بڑھتی ہوئی برائی سے نپٹنے کی مدد کے لیے، میں فحش نگاری میں ملوث ہونے کے مختلف معیارات کی نشان دہی کروں گا اور طریقے بھی بتاوں گا کہ ہمیں ان کا جواب کیسے دینا ہے اور ان سے کیسے بچنا ہے ۔

فحش نگاری سے انتہائی دور رہنے یا اس کے عادی ہونے سے بنچے کے لیے چار ایسے معیارات ہے جو ہماری مدد کر سکتے ہیں۔(1) اچانک (2) کبھی کبھار استعمال کرنا،(3) شدت سے استعمال ،اور (4) زبردستی استعمال (5) عادی پن۔

1-اچانک دیکھنا۔ میرا ایمان ہے کہ ہر کوئی اچانک فحش نگاری سے واقف ہوتا ہے  مگر اس کے بعد جب ہم اس سے منہ پھیرتے ہیں اور اس کا پیچھا نہیں کرتے تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔ یہ ایک خطا کی مانند ہے ، جو توبہ کی بجائے درستگی کے لیے آواز دیتی ہے ۔

2- کبھی کبھار استعمال ۔ فحش نگاری کا یہ استعمال کبھی کبھار یا کثرث سے ہوسکتا ہے ، مگر یہ ہمیشہ ارادی طور پر ہوتا ہے ، اور یہی اس کی برائی ہے ۔۔

فحش نگاری حرکت میں آتی ہے اور طاقتورجنسی احساسات کو بڑھاتی  ہے ۔ خالق نے ہمیں یہ احساس اپنے دانا مقاصد کے لیے دیا ہے ، مگر اُس نے ساتھ میں احکامات بھی دیئے کہ اس کا اظہار صرف اس شادی شدہ مرد عورت کے ساتھ ہونا چاہیئے، جس کے ساتھ آپ کی شادی ہوئی ہو۔فحش نگاری مناسب جنسی تاثر کو غیر اہم بنائی  ہے ۔ وہ جو فحش نگاری کو استعمال کرتےہین وہ ان کو طاقت ورقوتوں کے ساتھ سنجیدہ نہیں ہیں کہ وہ زندگی کو تخلیق یا تباہ کر سکتےہیں ۔ وہاں مت جائیں۔

3- شدت سے استعمال۔

شدت سے بار بار فحش نگاری کا استعمال ایک عادت بنا دتیا ہے ۔ باقاعدگی سے کسی چیز کی پیروی کر نے کا رویہ زیادہ ترغیر اختیاری بن جاتایے ۔ معمول کے مطابق استعمال کے ساتھ، معمول کے استعمال کے ساتھ  لوگ زیادہ ضرورت کی ترغیب کے رد عمل میں اپنی تسلی کا تجربہ کرتےہیں۔

4-زبردستی استعمال ( عادی پن )۔

جب کوئی شخص دوسرے پر انحصار کرنے لگ جاتا ہے تو وہ عادہ پن کی لت میں پڑجاتا ہے ۔( ایک طبی اصطلاح جس کا اطلاق منشیات، الکحل ، جوئے ، وغیرہ پر ہوتاہے ) جب کسی بھی چیز کے بارے “عادت اس حد تک ہو جائے کہ روکانہ جاکسے “اور انسان زندگی کے سارے کاموں کو چھوڑکر اس کام کو کرنے کو ترجیح دے۔

2-ان معیارات کو سمجھنے کی اہمیت

ایک باری جب ہم ان مختلف  معیارات کو پہچان لیتے ہی ، کہ ہر کوئی فحش نگاری   استعمال کرتا ہے وہ جان پوجھ کر اس لت میں نہں پڑتاہے ۔ دراصل، بہت سارے ینگ مین اور ینگ ومینز جو فحش نگاری سےنبردآزماہیں  وہ اس کے عادی  نہیں ہیں۔

3- فحش نگاری سے بچنا

اب سوچیں کہ کس طرح سے کو ئی شخص فحش نگارہ کے پھندے سے بچ سکتا اور صحت یاب ہو سکتا ہے ، یہ نہ صرف ان کے لیے مدد گار ہے جوجو فحش نگاری کے استعمال سے غالب آنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں بلکہ ان والدین اور رہنماوں کے لیے بھی کو ان کی مدد کرتےہیں۔ ہر شخص فحش نگاری سے بچنے کے لیے اور اس میں صحت یابی پانے کے لیے دونوں طرح سے زیادہ کامیاب ہوگا جب وہ ان موضوعات پر والدین اور رہنماوں سے بات چیت کر تےہیں

ارادی طور پر فحش نگاری میں ملوث ہونے  معیار سے قطع نظر، صحت یابی کی راہ، خالص پن اور توبہ کو انہی بینادی اصولوں اور پیروی کی ضرورت ہے:فروتنی ، شاگردیت ، تبدیل ہونے  کے لے ذاتی منصوبہ کا وعدہ ، جو ابدہی اور معاونت ، اور ایمام میں برداشت۔

-ہم میں سے ہر ایک آسمانی باپ کا بچہ ہے ۔

-ہمارا نجات دہندہ یسوع مسیح ، ہم سے پیار کرتا ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو ذاتی طور پر جانتا ہے ۔

-ہمارے نجات دہندہ کا کفارہ خدا کے سب  بچوں پر  لاگو ہوتاہے ۔

-یسو ع مسیح کے فضل سے ب معافی پا سکتے ہیں اور بدلنے  کی قوت پا سکتےہیں۔

-ہم میں سے ہر ایک کے پاس  خود مختاری کا بیش قیمت تحفہ ہے ، جو کفارے کی طاقت اور قوت  پر ہماری توجہ کراتا ہے ۔

-فحش نگاری ایک برائی ہے ، مگر اس میں کسی شخص کا ملوث ہونا اس کو برا نہیں بناتا ہے ۔

-کوئی بھی شخص فحش نگاری کے پھندے سے بچ سکتا اور مکمل طور پر صحت یاب ہو سکتا ہے، مگر یہ کفارے کی طاقت پر توجہ دینے کے وسیلے سے مکمن ہے۔

ہم توبہ کر سکتےہیں  اور دوبارہ سے اپنی زندگی  کی شروعات کرسکتے ہیں۔