ہم اپنے خاندان کی حفاظے کیسے کر سکتے ہیں۔
ہم اپنے خاندان کی حفاظے کیسے کر سکتے ہیں۔
گزشتہ سال میں نے اپنی بیٹی کے ساتھ ایک لیتل ہاوس اور بیگ وہ ڈ نامی کتاب پڑھی۔ہو سکتا ہے آپ اس سے واقف ہو۔ یہ پہلی کتاب جو لورا انگلز ویلڈر لکھی تھی،اور اس کی پرسرایر سریز چھوٹا گھر مقبول ہونا شروع ہو گئی ۔میں اسے پہلے سے پڑھا ہوا نہیں بلاتا،جیسا کہ میں اسے اپنی پانچ سال کی عمر میں پڑھا ،مجھے لگتاہے میں اس سے بہت لطف اندوز ہوایہاں تک کہ جو اس نے کیا۔کچھ جو اس میں اس کے خاندان کے رہن سہن کے مطلق تھا کہ وہ کیسے رہتے تھے ،اور اس نے مجھ سے تعصب کیا ۔ مجھےانٹرنیٹ سے پیا ر ہے ،لیکن اس خاندان کی سادگی اور ایک دوسرے کے لیے رحم دلی کے احساسات جو انہوں سے شیر کیے میرے لیے حقییقی طور پر بہت اہم تھے ۔ان کے ایک دوسرے کےساتھ مل جل کر کام کرنے کا خیا ل مجھے ان کی چھوٹی سی دنیا میں لے گیا۔کئی بار میں نے اس کے صفحات پڑھے اور اس دور کے بارے بیان کیا جو کے بارے اس میں لکھا تھا۔
آج جب میں اپنے اردگرد دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوںکہ گزرے ہوئےدور میں اگر ہم ن بہتر قدم نہ لیتے تو شاید ہم اپنی زندگیوںمیں اہم معاملات میں زیادہ توجہ مرکوز نہ کر سکتے ۔
میں اپنے اردگرد چیزوں کو دیکھتا ہوںجو بہت زیادہ غیر منحصر اورکشیدگی کا سسب بنتی ہیں،اور میں حقیقی معنوں میں یقین رکھتا ہوںکہ اندھیرے کے پرنسپلوں اورقوتوںکی خواہش یہی ہوتی ہے خدا کی بنائی ہوئی چیزوں کو تباہ اور برباد کریں۔خدا باپ خاندانوں کی مدد کرتا ہے ۔وہ خاندانوں سے محبت کرتا ہے ،ایک ساتھ ملتا ہے ،اور ان کے تعلقات کوفروغ دینے پر توجہ دیتا ہے ۔آج اس دورمیں میں جو دیکتھا ہوں وہ براہ راست خلافت ہے اور یہ سب چیزیں آہستہ آہستہ ترقی کر رہی ہیں اوریہاں تک کہ ہم نے کبھی اس کی اس بات پر توجہ نہیں دی کہ اس سےہمارے خاندان تباہ ہو رہے ہیں۔
ہمارے سابق نوجوان اور نوجوان وہ ا پنے اندر انسٹاگرام اور سنیچپ چیٹ میںجذب ہو رہے یہا ں تک کہ وہ ہوا میں بھی نہیں اڑتے ۔اس بات کو ہم نہیں سمجھتے۔ہم اپنی فیس بک نیوز فیڈ نیو گمز میں دفن ہو رہے ہیں۔
اس کی بڑھتی ہوئی نصاب کے طلباء کے ساتھ پبلک اسکول کی تعلیم کا معمول اچھی دوا کی طرح نگل لیا جاتا ہےاسکول کے سال طویل ہو رہے ہیں،امتحانات میں اضافہ ہو رہاہے ،گھر میں کام کرنے کے گھنٹے خاندانی وقت میں گزر جاتے ہیں۔اور بچے پہلے ہی آٹھ سے نوگھنٹے اپنے گھر سے دور گزارتےہیںاور یہ شام کے گھنٹوں کو زیادہ سے زیادہ منصوبوں، رپورٹیں، اور اضافی اسائنمنٹس میں گزارتے ہیں۔
ماں اور باپ کمزورہونے کی وجہ سے بہت زیادہ مدد کرنے سے قاصر ہیں۔وہ مزید کام کرنے کے بعد تھک جاتےہیں ۔معاشرے میں اکثریت ڈیل شٖٖفٹ کرنے والے والدین کی ہے۔جبکہ زندگی میں اچھی زندگی گزارنے کے لیے اضافی کام کرنا پڑتا ہے ۔اور میں حیرت سے سوچتا ہوں کہ حقیقی طور پر اس زندگی میں ہماری ضروریات کتنی زیادہ ہیں؟اور ہم زیادہ کام کرتے ہیں کہ ہم زیادہ خرید و فروخت کرسکے،جب کہ ہمارے پاس ہمارے پوری خریداری سے لظف اندوز ہونے کا وقت ہی نہیں۔ہم ہر سال کام کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اپنی سالانہ چھٹیوں کو بچائے ،اور اس طرح سے
ہمیں موقع ملتا ہے اپنی چھیٹوں سے لظف اندوز ہوسکے جن کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔
شیطان ہمارے ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے ۔
شیطان ہمارے ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے۔
ہم اپنی محنت کی کمائی سرگرمیوں خرچ کرتے ہیں۔بہت سی سرگرمیاں اپنی سر گرمیوں میں گزارتے ہیں،جیسا کہ گئیر،کپڑے، اور پرزے خریدنے میں لگاتےہیں۔،اور ہم اپنی سرگرمیوں میں لطف حا صل کرنے لیے اپنے چھٹی کے دن بھی کام پر جاتے ہیں تا کہ پیسے جمع کر سکے ۔اور دوسری طرف ایسی سرگرمیاں کو دیکھتے ہیں جہاں لوگ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دتیے ہیں سیکھاتے ہیں اور نصحیت کرتے ہیں۔کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہی وقت ہے جو ہم اکھٹے ایک دوسرے سے طلب کر رہے ہیں۔
اکھٹے وقت گزارنے کے لیے پیسہ کا ہو نا ضروری نہیں۔اگر آپ بیٹھتے ہیں حساب کرتے ہیں کہ آپ اپنا کتنا وقت اپنی بیوی کے ساتھ رہتے ہیں ، کہ یہ کتنا ہوگا ؟اورآپ کے بچوں کے بارے کیا ۔اور اس میں نہ وقت کام کر رہا ہے اور نہ چل رہا ہے ۔عین وقت. کیا آپ کو آپ کے ہفتہ وار کام پر خرچ کرنے کے بجائے یہ کم وقت ہے؟
آپ حررت زیادہ ہونگے کہ طلاق آج بہت زیادہ عام ہے کوننکہ یہ ہمارے سماج میں کافی زیادہ قابل قبول ہو گئی ہے ،تو کیایہ واقعی ہی ہو سکتی ہے کیونکہ کیا ہم اپنے شریک حیا ت کے ساتھ بہت کم وقت گزاررہے ہںس؟ تو بچوں کو اس سے کاف کم مصبتا ملے گی اگر ان کی رہنمائی کے لئے دستااب والدین / موجود ہیں؟اور وہ کہتے ہیں بچے کی دیکھ بھا ل گاوں میں ہوگی ،لیکن میں سوچتا ہوں کہ کیا ہمیں اسے بہت دور کررہے ہیں۔ کہ ہم چاہتے ہیں کہ ان کے دیکھ بھا ل گاوں میں ہو۔اور تب جب ہمارے بچے ناکام اور پیچھے رہ جاتے ہیں تو ہمارے پاس اساتدہ ہیں،تربیت کے لیے،اور ان کی وفات کے الزام کے لیے کلیسیا ہے ۔
یہ سوچنے کے لئے مشکل چیزیں ہیں،گزشتہ کچھ دہائوں میں زیادہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ سب کچھ لے ر ہی ہیں اور حقیقت بات یہ ہے کہ یہ خاندان کے یونٹ کو تباہ کر رہی ہیں. ہمارے بچے 10 بجے تک 3-5 بجے تک ہفتے میں بال کے ساتھ کھیل رہے ہوتے ہیں ، اور والدین ہفتے میں 60 گھنٹے کام کر تے ہیں تاکہ وہ ڈیزائنر ڈڈ کو قدوسوں پر ر کھیں، کیونکہ وہ والمارت برانڈ کے کپڑے پہنتےہیں. ہر کسی کو ان کے کمرہ میں ایک ٹی وی، ان کی جیب میں سیل فون، اور ڈرائیو کے لیے ایک نئی گاڑی چاہیے ہو تی ہے، لیکن ابھی تک ان ساری چیزوں میں سے کچھ بھی ہمارے ساتھ جنت مںا نہں جائے گا. ہم اپنے بچوں کے لئے مادی مال مہیا کرنے میں بہت محنت کر رہے ہیں، لیکن در حقیقت ہمیں اپنے گھٹنوں پر ان کے ساتھ ہونا چاہیے تو تب ہم ان کی یسوع کے قریب تر لانے میں
رہنمائی کرسکتےہیں۔.
ابدی زندگی جو ہماری خواہش ہونی چاہیے کہ ہمارے بچے حاصل کریں،اور نہ ہی بہترین تعلیم پیسوں سے خریدی جا سکتی ہے۔جبکہ میں تمام کو روشن مستقبل دے رہاہوں،اور میں اس دنیا کونہیں دینا چاہتا اگر یہ اپنی روح کو ضائع کر دے۔ جب میرے بچے بڑھے ہوں اور اپنی گزری ہوئی زندگی کو دیکھے تو میں چاہتا ہوں کہ انہیں اچھے وقت کی یاد آئے بجائے کہ وہ ہروقت خرچ کرنے کی یادوں کے بارے سوچے۔مجھے ان چیزوں پر کام کرنا ہے !لیکن ابھی تک میں نے تمام باتوں کے بارے نہیں سوچا، لیکن میں سوچتا ہوں کہ میرے پاس ابھی وقت ہے کہ میں خدا کی باتوں کو جان سکوں عمل کر سکوں اس سےپہلے کہ شیطان کی بری خواہشات ہمیں تباہ نہ کردیں۔
شیطان چاہتا ہے کہ ہم ہار جائے،پریشان رہیں،غم مین متبلا رہیں۔وہ چاہتا ہے کہ ہم دھوکےمیں رہے،اور ہماری صحت خراب ہو رہی ہے ، کیونکہ ہم مناسب نیند نہیں سوتے،مناسب غذا نہیں کھاتے،یا موثر طریقے سے ہمارا دباو کم ہو سکے ۔وہ خاوند اور بیوی میں مالیات کی وجہ سے لڑائیاں کرواتا ہےاوربدتمیزی کرنے والے نوجوان جو اپنے والدین کے ساتھ بچوں کے ٹی وی چینل کی طرح کا رویہ رکھتے ہیں ، اور بالغوں کی طرف سے ہزاروں نوجوانوں کو جنسی تعلقات کے ساتھ زیادتی کا سامنا کرناپڑتا ہے، وہ ہمیں ان کاموں میں مصروف رکھنا چاہتا ہے، لیکن اس کے کوئی معنی نہیں ہیں۔وہ ہماری پلیٹیں مکمل چاہتا ہے،لیکن ہمارے ٹینکس کو خالی۔بس وہ چاہتا ہے کہ ہم معاشرے میں ایسی سوسائٹی کو تلاش کریں جو ہمارے خاندانوں کے لیے بہتر ہو،ہمارے قدموں کے لیے چراغ کے طور پر خدا کا کلام نہیں۔اور وہ چاہتا ہے کہ ہمارے خاندانوں کے افراد الگ الگ ہوجائے،اور کئی بار میں ارگرد یکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے خاندانوں کے افراد الگ الگ ہو رہے ہیں۔جبکہ ہم بھی اس کے لیے قدم مضبوظ کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔.
میں یقین دلانا چا ہتا ہوںکہ ابھی بہت دیر نہیں ہوئی ہے. ہم ابھی بھی اپنے خاندانوں کو بچانے کے لئے لڑ سکتے کہ. شاید یہ سب ہمارے خاندان کے لئے حکمت، جرئت اور سچائی سے باہر نکلنے کے لئے آتا ہے. جو بہت مصروف ہے کاردیشینوں کے ساتھ، شاید اس وقت پرریئر پر لٹل ہاؤس ہو. آپ کیا سوچتے ہیں؟
* نوٹ کے، اس کا مطلب کسی کو ناراض کرنا نہیں ہے. اس کا مطلب صرف کہ لوگ اس کے بارے سوچے۔ میں، یقینی طور پر ترقی میں کام کر رہا ں
اس مضمون کو اس کےاصلی لنک سےپڑھنےکے لیے یہاں کلک کریں briegowen.com

Pin It on Pinterest

Share This